Ashfaq Ahmad

Ashfaq Ahmed, PP, SI (Urdu: اشفاق احمد) (August 22, 1925 – September 7, 2004) was a distinguished writer, playwright, broadcaster, intellectual and spiritualist from Pakistan. Read more...

وقت

Wednesday, December 15, 2010

وقت ایک ایسی انوسٹمنٹ ہے، ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جو باہمی اشتراک رکھتی ہے۔ ہمارے بابے کہتے ہیں کہ جب میں آپ کو اپنا وقت دیتا ہوں تو سننے والا اور آپ سے ملاقات کرنے والا اور آپ کے قریب رہنے والا آپ کو اپنا وقت دیتا ہے اور باہمی التفات اور م...حبت کا یہ رشتہ اس طرح سے چلتا رہتا ہے۔ میرے بھتیجے فاروق کی بیوی کشور جب ساہیوال سے اپنے میکے اسلام آباد گئی، تو کشور نے جاتے ہوئے(اس کا خاوند فاروق انکم ٹیکس آفیسر ہے اور اس نے سی ایس ایس کیا ہوا ہے، کشور بھی بڑی پڑھی لکھی ذہین لڑکی ہے) ایک کاغذ پر لکھا، یہ تمھارے لئے ایک انسٹرکشن پیپر ہے کہ دھوبی کو تین سو روپے دے دینا، دودھ والا ہر روز ایک کلو دودھ لاتا ہے، اس کو کم کرکے پونا سیر کر دینا اور بلی کے لئے جو قیمہ ہے ، یہ میں نے ڈیپ فریزر میں رکھ کر اس کی “پڑیاں“ بنا دی ہیں اور ان کے اوپر تاریخیں بھی لکھی ہوئی ہیں، روز ایک پڑیا نکال کر اس کو صبح کے وقت دینی ہے(اس کی سیامی بلی ہے، وہ قیمہ ہی کھاتی ہے)۔ اس نے اور دو تین ہدایات لکھی تھیں کہ مالی جب آئے تو اسے کہنا ہے کہ فلاں پودے کاٹ دے، فلاں کو “وینگا“(ٹیڑھا) کر دے اور فلاں کی جان مار دے، جوجو بھی اس نے لکھنا تھا، ایک کاغذ پر لکھ دیا۔
اس نے اپنے خاوند سے کہا کہ ساری چیزیں ایمانداری کے ساتھ ٹٍک کرتے رہنا کہ یہ کام ہو گیا ہے۔ جب وہ ایک مہینے کے بعد لوٹ کر آئی اور اس نے وہ کاغذ دیکھا، تو اس کے کامی خاوند نے ساری چیزوں کو ٹٍک کیا ہوا تھا۔ اس نے آخر میں کاغذ پر یہ بھی لکھا تھا کہ “مجھ سے محبت کرنا نہیں بھولنا“ جب اس نے ساری چیزیں ٹٍک کی ہوئی دیکھیں اور آخری ٹٍک نہیں ہوئی تو اس نے رونا، پیٹنا شروع کر دیا کہ مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے باقی کام تو نہایت ذمہ داری سے کئے ہیں، یہ ٹٍک کیوں نہیں کی؟ تب اس(فاروق) نے کہا کہ پیاری بیوی جان یہ تو میں ٹٍک کر نہیں سکتا، کیونکہ یہ تو عمل مسلسل ہے۔محبت کا عمل تو جاری رہتا ہے۔ یہ کہیں رُکتا نہیں ہے۔ محبت گوالے کا دودھ نہیں ہے، یا اخبار کا بل نہیں ہے، اس کو میں کیسے ٹٍک کر سکتا تھا؟ یہ تو چلتی رہے گی۔ یہ کاغذ ایسا ہی رہے گا۔ تم سو بار مجھے لکھ کر دے جاؤ، ہزار بار میں ہر آئٹم کو ٹٍک کروں گا، لیکن یہ معاملہ تو ایسے ہی چلتا رہے گا۔ تو یہ ایک انوسٹمنٹ ہے، وقت کی۔ پلیز! خدا کے واسطے اس بات کو یاد رکھیئے۔ بظاہر یہ بڑی سیدھی سی اور خشک سے نظر آتی ہے، لیکن آپ کو اپنا وقت دینا ہوگا، چاہے تھوڑا ہی، بے حد تھوڑا ہو اور چاہے زندگی بڑی مصروف ہو گئی ہو۔
واقعی زندگی مصروف ہو گئی ہے، واقعی اس کے تقاضے بڑے ہو گئے ہیں، لیکن جب انسان انسان کے ساتھ رشتے میں داخل ہوتا ہے، تو سب سے بڑا تحفہ اس کا وقت ہی ہوتا ہے۔ وقت کے بارے میں ایک بات اور یاد رکھئے کہ جب آپ اپنا وقت کسی کو دیتے ہیں تو اس وقت ایک عجیب اعلان کرتےہیں اور بہت اونچی آواز میں اعلان کرتے ہیں، جو پوری کائنات میں سنا جاتا ہے۔ آپ اس وقت یہ کہتے ہیں کہ “اس وقت میں اپنا وقت اس اپنے دوست کو دے رہی ہوں، یا دے رہا ہوں۔ اے پیاری دنیا! اے کائنات!! اس بات کو غور سے سنو کہ اب میں تم ساری کائنات پر توجہ نہیں دے سکتا، یا دے سکتی، کیونکہ اس وقت میری ساری توجہ یہاں مرکوز ہے۔“آپ اعلان کریں یا نہ کریں، کہیں یا نہ کہیں جس وقت آپ ہم آہنگ ہوتے ہیں اور ایمانداری کے ساتھ وقت کسی کو دے رہے ہوتے ہیں، تو پھر یہ اعلان بار بار آپ کے وجود سے، آپ کی زبان سے،آپ کے مسام سے آپ کی حرکت سے نکلتا چلا جائے گا۔ توجہ ہی سب سے بڑا راز ہے۔

0 comments:

Post a Comment

Send us your comments are any paragraph about program Zawiya you want to post.