Ashfaq Ahmad

Ashfaq Ahmed, PP, SI (Urdu: اشفاق احمد) (August 22, 1925 – September 7, 2004) was a distinguished writer, playwright, broadcaster, intellectual and spiritualist from Pakistan. Read more...

کامیاب زندگی

Saturday, December 18, 2010

میرے ارد گرد کامیاب زندگی بسر کرنے والے بہت سے لوگ ہیں، جنہوں نے زندگی سے پیار نہیں کیا بلکہ کامیابی سے پیار کیا ہے۔ جب آپ زندگی کو کامیابی سے علٰیحدہ کر دیتے ہیں اور زندگی کو مقفل کر دیتے ہیں اور صرف کامیابی کو پکڑ لیتے ہیں تو پھر آپ کی کی...فیت وہی ہوتی ہے جو ابھی ماضی قریب میں ہم نے دیکھا کہ جن لوگوں نے بہت پیسے اکٹھے

Zavia : Ashfaq Ahmed (VIDEOS)

Wednesday, December 15, 2010

خدا سے زیادہ جراثیموں کا خوف

جب ہم چھوٹے تھےتو اپنی ماں کے پاس بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے‘ اچانک روٹی کا لقمہ
میری ماں کے ہاتھ سے زمین پر گر گیا۔ جونہی وہ لقمہ ماں کے ہاتھ سے گرا انہوں نے بسم الله کہہ کر وہ لقمہ زمین سے اٹھایا۔اس پر پھونک ماری اوراسے کھا لیا۔ اس پر میری ...بڑی بہن نے شور مچادیا کہ اماں اس طرح سے آپ کو یہ روٹی کا ٹکڑا نہیں کھانا چاہئیے تھا۔یہ جراثیموں سے آلودہ ہوچکا تھالیکن میری ماں کچھ نہ بولی اور اطمینان سے وہ ٹکڑا نگل لیا۔ میں اب سوچتا ہوں کہ میری ماں جراثیموں سے زیادہ خدا سے ڈرتی تھی‘ وہ خداکی دی ہوئی نعمت کی قدر کرتی تھی اور ہم خدا سے زیادہ جراثیموں سے ڈرتے ہیں۔

میں ایک بار اپنی گاڑی کا کام کروارہا تھا۔دوپہر کا وقت تھا تو ورکشاپ میں وہ کاریگر وغیرہ روٹی کھانے لگے۔انہوں نے مجھے بھی دعوت دی لیکن میں نےشکریہ کہہ کر معذرت کرلی۔ گاڑی کا وہ مکینک کام کرتے کرتے اٹھا‘ اس نے پنکچر چیک کرنے والے ٹب سے ہاتھ گیلے کیے اور ویسے ہی جاکر کھاناکھانا شروع کردیا۔میں نے اس سے کہا الله کے بندے اس طرح گندےہاتھوں سےکھانا کھاؤگے تو بیمار پڑجاؤگے۔ہزاروں جراثیم تمہارے پیٹ میں چلے جائیں گے۔تو اس نے جواب دیا کہ “صاحب جب ہم ہاتھوں پر پہلاکلمہ پڑھ کر پانی ڈالتے ہیں تو سارے چراثیم خود بخود مرجاتے ہیں‘ اورجب ہم بسم الله پڑھ کر روٹی کا لقمہ توڑتے ہیں تو جراثیموں کی جگہ ہمارے پیٹ میں برکت اور صحت داخل ہوجاتی ہے۔“

مجھے اس مکینک کی بات نے ہلا کر رکھ دیا۔یہ اس کا توکل تھا جو اسےبیمار نہیں ہونے دیتاتھا۔ میں اس سے اب بھی ملتا ہوں۔ اتنے سال گزرجانے کے بعد بھی وہ مجھ سےزیادہ صحتمند ہے۔
زاویہ سوئم سے اقتباس

چاہیے کا روگ

میں آپ کو اکثر ایسی باتیں بھی بتاتا رہتا ہوں جو آپ کے مطالعے، مشاہدے یا نظر سے کم ہی گزری ہوں گی۔ ایک زمانے میں تو ہمارے ہاں بہت سی درگاہیں اور “ زاویے “ ہوتے تھے جہاں بزرگ بیٹھ کر اپنے طرز کی تعلیم دیتے تھے لیکن آہستہ آہستہ یہ سلسلہ کم ہونے لگا۔ یہ کمی کس وجہ سے ہوئی میں اس حوالے سے آپ کی خدمت میں درست طور پر عرض نہیں کر سکتا۔ وہ درگاہیں، زاویے اور وہ بزرگ یوں مفید تھے کہ وہ اپنی تمام تر کوتاہیوں اور کمیوں کے باوصف لوگوں کو ایسی تسلی اور تشَفّی عطا کرتے تھے جو آج کے دور کا مہنگے سے مہنگا Psychoanalyst یا Psychiatrist نہیں دے سکتا۔

زندگی کی خوشیاں

انسان جب بھی خوش رہنے کے لیے سوچتا ہے تو وہ خوشی کے ساتھ دولت کو ضرور وابستہ کرتا ہے اور وہ امارت کو مسرت سمجھ رہا ہوتا ہے۔ حالانکہ امارت تو خوف ہوتا ہے اور آدمی امیر دوسروں کو خوفزدہ کرنے کے لیے بننا چاہتا ہے۔ جب یہ باتیں ذہن کے پس منظر می......ں آتی ہیں تو پھر خوشی کا حصول ناممکن ہو